|
دو ماہ پہلے مجھے لاہور میں اپنے ایک عزیز کے گھر جانے کا اتفاق
ہوا۔ وہاں پر میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ گرمیوں میں اے سی
کو پوری صلاحیت کے مطابق چلا رہے ہیں اگر کمرہ زیادہ ٹھنڈا ہو جائے
تو خود کمبل اوڑھ کر سوتے ہیں مگر اے سی کو بند نہیں کرتے ۔ اسی
طرح روشنیاں دن کے وقت بھی جل رہی ہیں ایسا ہی حال گیس کا ہے چولہا
کم زیادہ کر دیتے ہیں لیکن بند نہیں کرتے۔
میرے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ موصوف عزیز ایک ایسے سرکاری
ادارے میں ملازم ہیں جہاں یہ تمام سہولیات فری ہیں۔ ایسے معلوم
نہیں کتنے اہلکار ہونگے جو بجلی اور گیس کی مٹی پلید کر رہے ہیں ۔
محکمہ بجلی کے ملازمین کو بھیک سی حد تک بجلی فری ہے ۔ اہلکار کے
رتبہ کے مطابق اس کو فری یونت ملتے ہیں ۔ زائد صرف شدہ یونٹس کا بل
ادا کرنا پڑتا ہے۔ محکمہ بجلی کے ایک اہلکار سے دریافت کیا کہ وہ
زائد صرف شدہ یونٹس کا کتنا بل ادا کرتا ہے اس نے جواب دیا بجلی کا
میٹر یونٹ دکھائے گا تو ہی حساب ہو گا؟
ہمارے ملک میں بجلی کی قلت ہے میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ یہ قلت
ہمارے سربراہوں کی مجبوریوں اور نا سمجھیوں کی وجہ سے ہے لیکن یہ
ایک حقیقت ہے کہ جتنی بھی بجلی پیدا ہوتی ہے اس کا ایک بڑا حصہ
ٴٴمفت بریٴٴ کی نظر ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بجلی کی چوری کا حساب
کتاب بھی واضح نہیں ہے۔ فیسکو کے سابق چیف ایگزیکٹیو کے ریڈیو
انٹرویو کے مطابق اس ریجن میں 16% لائن لاسز ہیں جو کہ دوسرے تمام
ریجنوں کے مقابلہ میں بہت کم ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا دوسرے ریجنوں
میں 20% بجلی کا لائن لاسز ہونگے ٟقارئین اکرام کی اطلاع کے لئے
عرض ہے کہ بجلی کی چوری کو محکمہ والے لائن لاسز کہتے ہیںٞ کچھ
ریجن ایسے بھی ہیں جن کے لائن لاسز 20% سے بھی تجاویز کر جاتے ہیں
ان تمام لائن لاسز یا بجلی کی چوریوں سینہ زوریوں کی سزا ان صارفین
کو دی جاتی ہے جو باقاعدگی سے بل ادا کرتے ہیں۔ بجلی کی چوری روکنے
کے لیے کسی قسم کی شعوری کوشش نہیں کی جاتی ۔ افسران بالا کے حکم
پر بجلی کی چوری روکنے یا لائن لاسز کم کرنے کی مہم چلا بھی دی
جائے تو بھی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ بجلی کی چوری روکنے
پر وہی عملہ مامور ہوتا ہے جو بجلی کی چوری میں شامل اور حصہ دار
ہوتا ہے کیونکہ یہ تو اب پکی بات ہے کہ بجلی کے عملہ کی مرضی رضا
مندی اور عملی معاونت کے بغیر بجلی کی چوری ہو ہی نہیں سکتی۔
ہر حکومت اپنے عوام کی خدمت کرنے کی کوشش کرتی ہے ہمارے ملک کے بعض
پسماندہ علاقے جہاں عوام معاشرتی اور تعلیمی لحاظ سے دوسرے علاقوں
کی نسبت پیچھے ہیں ان کو ترقی یافتہ علاقوں کی برابر لانے کے لیے
حکومت ان کو سہولتیں فراہم کرتی ہے۔ انکو فری یا رعایتی ریٹ پر
بجلی ، گیس اور فون فراہم کئے جاتے ہیں۔ ان سہولتوں کی فراہمی سے
واپڈا گیس یا فون کے محکمہ کو حکومت اپنے محفوظ فنڈ سے پوری رقم
فراہم کرے تاکہ یہ محکمہ نقصان کا واویلا کر کے عوام کو فراہم کردہ
سہولیات کی قیمت نہ بڑھا سکیں۔
میڈیا کے ذریعے عوام کو علم ہوتا رہتا ہے کہ فلاں فلاں علاقے واپڈا
کے اربوں روپے کے دیندار ہیں اور واپڈا ایندھن فراہم کرنے والی
فرموں کا اربوں روپے کا مقروض ہے اس طرح ایندھن فراہم کرنے والا
ادارہ ضرورت کے مطابق ایندھن فراہم نہیں کرتا ۔ اس کے علاوہ بجلی
پیدا کرنے والے پلانٹ ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے پوری بجلی پیدا
نہیں کرتے جس کی وجہ سے بجلی کی ہر وقت کمی رہتی ہے۔ ضرورت اس امر
کی ہے کہ تمام علاقے واپڈا کو بر وت پوری ادائیگی کریں اور واپڈا
ایندھن فراہم کرنے والی فرم کو بر وقت ادائیگی کرے اس طرح صورت حال
میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
لائن لاسز کم کرنے یا بجلی کی چوری روکنے کے لیے حکومت کو سخت
اقدامات کرنے ہونگے۔ وزارت بجلی و پانی اور واپڈا اپنے اخراجات کو
کنٹرول کریںحسب عادت اور حسب روایت فضول خرچیاں بلکہ شاہ خرچیاں
بند کی جائیں۔
تمام سرکاری ملازمین خواہ وہ کسی خاص محکمہ سے تعلق رکھتے ہوں ان
کو بجلی کی فری سپلائی نہ کی جائے ان ملازمین کو ان کے عہدہ کے
مطابق سہولیات فنڈ دیا جائے لیکن وہ ہر سہولت کی قیمت ادا کریں۔
لائن لاسز کم کرنے کا ٹارگت متعلقہ ایس ڈی او کو دیا جائے اگر وہ
ایسا نہ کر سکے تو اس کا تبادلہ کر دیا جائے ٟبلکہ اس کو سزا دی
جائےٞ ۔
ہر ریجن میں بجلی کی چوری روکنے کے لیے متعدد چھاپہ مار ٹیمیں کام
کریں جس سب ڈویږن
میں چوری کے واقعات پکڑے جائیں اس ایس ڈی او کے خلاف مناسب محکمانہ
کاروائی کی جائے۔
ایم این اے حضرات کو ملازمین کوٹا دینا کر دیا جائے ، ایم این اے
حضرات کے کوٹے کی وجہ سے ہر محکمہ میں ملازمین کی تعداد ضرورت سے
زیادہ ہے۔ محکمہ بجلی کے افسران اعلیٰ لمبی تنخواہ و دیگر مراعات
پر قناعت کریں اور کرپٹ ملازمین سے حصہ طلب کرنے کی بجائے ان کے
خلاف سخت تادیبی کاروائی کریں۔ کیونکہ کرپشن کے ناسور کی وجہ سے یہ
کمائی کرنے والا محکمہ نقصان میں جا رہا ہے اور یہ نقصان عوام سے
وصول کیا جا رہا ہے۔
اصلاح احوال کے لیے ابھی وقت ہے کیونکہ عوام اب نک و نک ہو چکے ہیں
۔ جب عوام کی قوت برداشت جواب دے جائے تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ خدا
ہمارے پیارے وطن کو بُرے وقت اور ہر قسم کی برائی سے بچائے رکھے۔
آمین
|