|
تمام سرکاری محکموں کے باوا آدم
نرالے ہیں لیکن محکمہ بجلی کے معاملات سب سے الگ اور سب سے جدا
ہیں۔ بجلی اب ہر گھر اور ہر انڈسٹری کی ضرورت ہے محکمہ بجلی کو اس
کا احساس ہے اسی وجہ سے یہ عوامی جذبات سے نہایت ہی گھٹیا طریقہ سے
کھیلتا ہے۔
دوسرے محکموں کی طرح یہ بھی عوام کو ٹیکہ لگاتا رہتا ہے۔ محکمہ مال
اس وقت ٹیکہ لگائے گا جب آپ
کو پٹواری سے واسطہ پڑے گا۔ محکمہ انکم ٹیکس آپ
کو اس وقت تنگ کرے گا جب آپ
کی آمدنی
ایک خاص سطح سے بڑھ جائے۔ ایف ڈی اے اور کارپوریشن بھی آپ
کا جلوس اس وقت نکالیں گے جب آپ
کا ان سے واسطہ پڑے گا۔ لیکن محکمہ بجلی سے آپ
کو 24 گھنٹے واسطہ پڑتا ہے بلکہ اب تو اس محکمہ نے عوام پر مہربانی
کرتے ہوئے ان کو چند گھنٹوں کا ریلیف دے دیا ہے یعنی اب 24 گھنٹے
کی بجلی 16 تا 18 گھنٹے ملا کرے گی۔ لیکن بجلی کا بل کم نہیں ہو گا
بلکہ بڑھ کر ہی آئے
گا۔
بجلی کے ریٹ پہلے سال کے بعد بڑھا کرتے تھے اب تو بجلی کے ریٹ چند
ماہ کے وقفے کے بعد بڑھا دیئے جاتے ہیں۔ جس کے انتہائی نامعقول
وجوہات بیان کی جاتی ہیں دیگر محکموں نے بھی اپنا بوجھ بجلی کے
بلوں پر ڈال دیا ہے بجلی کے صرف شدہ یونٹوں پر پڑھتے ہوئے داموں سے
بل تو بنتا ہی ہے لیکن اس پر بجلی والے اپنی علیحدہ ڈیوٹی بھی شامل
کر دیتے ہیں۔ ٹیلی ویږن
کی فیس این جے سرچارج کے علاوہ سنٹرل ایکسائز ڈیوٹی بھی ان بلوں
میں شامل کر دی جاتی ہے حالیہ بجلی کے بلوں پر 6% اضافہ صرف بجلی
کے صرف شدہ یونٹوں پر لاگو نہیں ہوگا بلکہ دوسرے سرچارج اور
ڈیوٹیاں بھی بڑھیں گی اور مرتے کو اور مارا جائے گا۔
کاروباری
نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو بجلی کے بڑھانے کا کوئی جواز نہیں بنتا
جس چیز کی طلب بڑھتی ہے اس پر اخراجات فی یونٹ کم ہوجاتے ہیں۔ یعنی
اگر بجلی کے ایک سب ڈویږن
میں ایک لاکھ صارف ہیں اور سب ڈویږن
کا خرچہ دس لاکھ ماہانہ ہے لیکن صارف 10% بڑھ گئے اس طرح صرف شدہ
یونٹوں میں اضافہ ہوا لیکن سب ڈویږن
کا خرچہ اتنا ہی رہا یہ کاروباری بات ہمارے افسران بالا کی سمجھ سے
بالا ہے اس لئے ڈیمانڈ بڑھنے سے وہ ریٹ بھی بڑھا دیئے ہیں کیونکہ
عوام مجبور ہیں ان کو اپنی ضروریات کیلئے بجلی کی ضرورت ہے اس لئے
وہ بجلی والوں کے ظالمانہ سلوک کو برداشت کر رہے ہیں۔
ہمارے شہر میں تو رواج ہے کہ دو ماہ کا بل نہ ادا کیا جائے تو بجلی
منقطع کر دی جاتی ہے پھر دوبارہ بجلی بحال کرانے کیلئے بقایا جات
کے علاوہ فیس دینی پڑتی ہے کیا یہ اصول ہر شہر میں لاگو ہے؟ اس
سوال کے جواب میں چند مثالیں پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ کراچی
الیکٹرک سپلائی کمپنی کے ایک اہلکار نے سابقہ حکومت کے دور میں ٹی
وی پر فرمایا تھا کہ ہم کراچی کو جتنی بجلی فراہم کر رہے ہیںاس کے
مقابلے میں ریونیو بہت کم حاصل ہو رہا ہے یعنی بجلی بڑے پیمانے پر
اور بڑے ڈھرلے سے چوری ہو رہی ہے۔ انہی دنوں سندھ کے وزیر اعلیٰ
محترم ارباب رحیم نے اپنے ایک ٹی وی بیان میں کہا تھا کہ غریب ہاری
غربت کی وجہ سے بجلی کے بل ادا نہیں کر سکتے لیکن کسی نے ان سے یہ
سوال کرنے کی جسارت نہیں کی کہ وہ غریب لوگ رنگین ٹی وی اور پنکھے
خرید سکتے ہیں لیکن بجلی کے بل کی ادائیگی کے وقت غربت کیوں آڑھے
آتی
ہےں؟
واپڈا کے چیئرمین نے متعدد دفعہ میڈیا پر بیان دیتے ہوئے فرمایا ہے
ملک کے فلاں فلاں علاقے واپڈا کو ادائیگی نہیں کر رہے اور ان کی
طرف اربوں روپے بقایا ہیں اس طرح واپڈا ایندھن فراہم والے اداروں
کا اربوں روپے کا مقروض ہے۔ اسی لین دین کے چکر میں واپڈا وزارت
بجلی وپانی سے بجلی کے ریٹ بڑھانے کی درخواست کر دیتا ہے اور بھاری
معصوم نیک و شریف وزارت بھی ریٹ بڑھا کر خسارہ پورا کرنے کی کوشش
کرتی ہے لیکن یہ وزارت نہ ان علاقوں کو کچھ کہتی ہے جو ادائیگیاں
نہیں کر رہے نہ واپڈا کو اپنے حالات درست کا حکم صادر فرماتی ہے۔
جو علاقے یا صارف بجلی کے بل ادا ہی نہیں کرتے وہ موج میں ہیں ان
کو بجلی کی قیمت کے علاوہ دیگر ٹیکس بھی ادا کرنے بچ جاتے ہیں تمام
مصیبت اور بوجھ ان لوگوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے جو باقاعدگی سے بل
ادا کرتے ہیں۔
فیسکو کے سابقہ چیف ایگزیکٹو نے اپنے ایک ریڈیو انٹرویو میں فرمایا
تھا کہ فیصل آباد
کا ریجن پاکستان کا ٟبجلی کے حوالے سے ٞ سب سے اچھا ریجن ہے یہاں
پر لائن لاسز صرف 16% ہیں انکے مطابق دوسرے علاقوں میں لائن لاسز
50% بھی ہیں یعنی ایماندار ریجن میں 16% بجلی چوری ہو رہی ہے لیکن
دوسرے علاقے میں بجلی کی چوری بڑے دھڑلے سے ہو رہی ہے حالانکہ بجلی
کی چوری یا لائن لاسز پر آسانی
سے قابو پایا جا سکتا ہے کیونکہ بجلی کی چوری صارف یغیر محکمہ کی
امداد کے کر ہی نہیں سکتا اس لئے محکمہ بجلی کو اپنے اندر کی کالی
بھیڑوں سے نجات حاصل کرنی چاہئے۔
جاری ہے ٟآئندہ
اشاعت میں دوسری قسط ملاحطہ فرمائیںٞ
|